
مسیحی نظریاتی کونسل کے قیام کے لیے بوٹا امتیاز کی آئینی درخواست۔
انگلینڈ (ڈاکٹر پرویز بھٹی، نوائے مسیحی نیوز)
پاکستان میں تمام مسیحی مکاتبِ فکر کی یکساں نمائندگی پر مشتمل ’’مسیحی نظریاتی کونسل‘‘ کے قیام کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ ایوارڈ یافتہ آر ٹی آئی (RTI) ایکٹیوسٹ اور انسانی حقوق کے رہنما بوٹا امتیاز نے 29 ستمبر 2026ء کو اس مقصد کے لیے صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام کو آئینی و قانونی درخواست ارسال کی ہے۔
درخواست میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 20 اور آرٹیکل 36 کا حوالہ دیتے ہوئے مسیحی برادری کے مذہبی امور اور شخصی قوانین میں اصلاحات کے لیے ایک بااختیار نمائندہ ادارہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مسیحی نظریاتی کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش کی گئی؟
بوٹا امتیاز کے مطابق پاکستان میں مسلمانوں کے مذہبی اور خاندانی قوانین سے متعلق امور پر مشاورت کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل موجود ہے، جبکہ مسیحی برادری کے شخصی قوانین اور مذہبی معاملات پر جامع مشاورت فراہم کرنے والے اسی نوعیت کے ادارے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ مسیحی نظریاتی کونسل مسیحی پرسنل لاز میں عصری تقاضوں کے مطابق اصلاحات کے لیے تجاویز مرتب کرنے اور پارلیمان کو قانون سازی کے معاملات میں مستند مشورے فراہم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔
کن اعلیٰ حکام کو درخواست ارسال کی گئی؟
فراہم کردہ پریس ریلیز کے مطابق یہ درخواست صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزیرِ قانون، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور، اقلیتی حقوق کے نفاذ کے لیے ون مین کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر شعیب سڈل اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن کو ارسال کی گئی ہے۔
درخواست میں متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس تجویز کا آئینی اور قانونی جائزہ لے کر کونسل کے قیام کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔
تمام مسیحی مکاتبِ فکر کی نمائندگی کی تجویز
بوٹا امتیاز نے تجویز پیش کی ہے کہ مجوزہ کونسل میں مسیحی برادری کے مختلف مکاتبِ فکر کے مذہبی رہنماؤں، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔
ان کے مطابق تمام متعلقہ حلقوں کی نمائندگی سے مسیحی برادری کے مذہبی، خاندانی اور سماجی معاملات پر مشاورت کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم قائم ہو سکتا ہے، جہاں مختلف آرا کو سامنے رکھتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے تجاویز مرتب کی جا سکیں۔
قانون سازی کے ذریعے کونسل قائم کرنے کا مطالبہ
بوٹا امتیاز نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ مجوزہ مسیحی نظریاتی کونسل کے قیام کے لیے قانون ساز بل یا آرڈیننس کے ذریعے کارروائی شروع کی جائے۔
ان کا مؤقف ہے کہ اس طرح مسیحی برادری کے شخصی قوانین میں ضروری اصلاحات، مذہبی امور پر مشاورت اور اقلیتی حقوق کے تحفظ سے متعلق معاملات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
آئینی حقوق اور مجوزہ کونسل کا مستقبل
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 20 مذہبی آزادی سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 36 اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ سے متعلق ریاستی اصول بیان کرتا ہے۔ بوٹا امتیاز نے اپنی درخواست میں ان آئینی دفعات کو مجوزہ کونسل کے قیام کے مطالبے کی بنیاد بنایا ہے۔
تاہم، کونسل کے قیام، اس کے اختیارات، ارکان کے انتخاب اور قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ آئینی و قانونی طریقۂ کار کے تحت ہی ہو سکے گا۔
فی الحال فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ معاملہ ایک آئینی و قانونی درخواست اور مجوزہ ادارے کے قیام کے مطالبے سے متعلق ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے درخواست پر کسی باضابطہ فیصلے یا کونسل کے قیام کا اعلان سامنے آنے کی تصدیق اس خبر میں شامل معلومات سے نہیں ہوتی۔
نوائے مسیحی نیوز اس معاملے میں ہونے والی آئندہ پیش رفت کو قارئین تک پہنچانے کی کوشش کرے گا۔