![]() |
| تحریر: ڈاکٹر شاہد ایم شاہد |
رشوت ایک معاشرتی ناسور ہے جس کی جڑیں اس قدر گہری ہیں جنہیں اکھاڑنا آسان کام نہیں۔کیونکہ یہ صدیوں سے راج کر رہا ہے۔ظاہر ہے جو چیز صدیوں سے رائج ہو۔اس کا وجود ختم کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اس امر کے باوجود ایک خواب کی تعبیر سمجھ کر آواز ضرور اٹھائی جا سکتی ہے ، عوام الناس کو راغب کیا جا سکتا ہے ، تعلیم و تربیت کے ذریعے قائل کیا جا سکتا ہے ، نفسیاتی حر بے زیر استعمال لائے جا سکتے ہیں تاکہ جلد از جلد روز مرہ کے ناخوش گوار حالات و واقعات پر قابو پایا جا سکے۔رشوت کی بابت اگر یہ بات کہی جائے تو کوئی مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔اگر تجربات و مشاہدات کی خوردبین سے اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے خطے پر اس وباء کے مہلک اثرات ثابت ہوئے ہیں۔ جیسے ایک دیمک لکڑی کو کھا جاتی ہے۔اسی طرح رشوت انسانوں کے حقوق نگل جاتی ہے۔اس کی کشش و معیار مہندی کی طرح ہے جو ہاتھ اسے لیتے اور دیتے ہیں۔دونوں رشوت کی مہندی سے رنگے جاتے ہیں۔سچی بات تو یہ ہے کہ جیسے ہی کسی کی مٹھی گرم ہوتی ہے ناممکن کام بھی ممکن بن جاتا ہے۔یہ وباء صدیوں پرانی ہے جس کے مہلک اثرات نسل در نسل جاری و ساری ہیں۔ہر دور میں اس کی کارستانیاں ، آزمائشیں ، ناحق پیمائشیں اور جادوئی اثرات طرح طرح کے نفسیاتی عوارض کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اگر عصر حاضر کی بات کی جائے تو اس کی روایت کا چرچا گھر کی دہلیز سے شروع ہو کر پورے معاشرے پر براجمان ہے۔ یہ انسان پر ظاہر و باطن کی صورت میں اثر انداز ہوتی ہے۔اگر حقیقت کا بے لاگ تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ چھپ کر اپنا کام کر جاتے ہیں اور کچھ لوگوں کی پرواہ کیے بغیر ظاہری ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ اپنا کام نکلوا لیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے یہ کسی نہ کسی صورت میں ہمارے درمیان موجود ہے۔کوئی اقرار کرے یا انکار۔بہرحال اس کی جڑیں پورے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہیں ۔روزانہ کی بنیاد پر نہ جانے کتنے اخبارات و رسائل میں رشوت کے متعلق خبریں گردش کرتیں اور انسانوں کے چہرے بے نقاب کرتی ہیں۔ ٹھوس دلائل و اثبات کے باوجود بھی انسانوں نے عبرت حاصل نہیں کی بلکہ اس دلدل میں مزید گھسنے کا فیصلہ کیا ہے۔آج تک یہ ناسور نہ ٹھیک ہوا اور نہ مستقبل میں ٹھیک ہونے کی امید ہے۔ اصل وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ جس تیزی سے پورے معاشرے کو گھائل کر رہا ہے۔اسی قدر حقوق کی پامالی و نیلامی بڑھ رہی ہے۔ایماندار لوگ کرپشن کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں مگر افسوس! ان کی آواز کو ان سنی کر دیا جاتا ہے۔اگر رشوت لینے اور دینے کی وجوہات تلاش کی جائیں تو ایک لمبی فہرست منہ چڑھا کر کھڑی ہو جائے گی۔ہمیں شرمندہ کرے گی اور ہمارا مذاق اڑائے گی۔کبھی اداروں پر سوال اٹھائے گی ، کبھی سیکورٹی کے معاملات پر ، کبھی عدالتی نظام پر ، کبھی تھانہ کلچر پر ، کبھی انسانی حقوق کی تنظیموں پر ، کبھی خاندان کی کہانی پر ، کبھی سچ اور کبھی جھوٹ کی جیت پر۔حقائق پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے گماں گزرتا ہے کہ آخر ہماری کون سی مجبوریاں ہیں جو ہمیں اس قدر گھائل کر رہی ہیں جہاں ہم اپنی تعلیم و تربیت پر چھوڑے ہوئے اثرات کو پس پشت ڈال کر اور مذہبی تعلیم کو بھی بھول کر اپنے ہاتھوں کو رشوت کی مہندی سے رنگ لیتے ہیں۔اگرچہ یہ ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ لوگ اس کے متعلق اپنی ذات کی بابت کوئی بات سننا گوارا نہیں کرتے ۔نہ جانے کیوں اس کی تاثیر اور لذت اس قدر لذیذ ہے جہاں ہر کوئی آسانی سے بک جاتا ہے۔شاید یہ ہماری معاشی مجبوریاں ہیں یا لالچ کے بہتے دریا جس میں ہر کوئی راتوں رات امیر بننے کے خواب پورے کر رہا ہے۔ہم کیوں نہیں سمجھ پاتے کہ جو خوشی دوسروں کا حق چھین کر حاصل کی جائے وہ حقیقی اطمینان سے خالی ہوتی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ذہنی دباؤ ، حادثات ، ناچاقیاں ، نہ اتفاقیاں اور الجھنیں اس قدر بڑھ گئی ہیں جہاں حقیقی اطمینان چھن گیا ہے۔
اخلاقی امراض کے باعث معاشرے میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔ شکوک و شبہات بڑھے ہیں۔ الجھنوں نے جنم لیا ہے۔بدنظمی پیدا ہوئی ہے۔سچ کو دیمک نے چاٹا ہے۔
یہ معاشرے کا اصول ہے کہ جب کسی چیز کی قیمت لگتی ہے تو وہ بولی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور پھر سب سے زیادہ لگنے والی بولی جیت جاتی ہے۔ کس سے شکوہ کریں اور کس کے سامنے اپنا رونا روئیں۔ یہ ایک معاشرتی نوحہ ہے جو صدیوں اور برسوں سے جاری ہے۔اگر ہم پاکستان کو رشوت سے پاک ملک دیکھنا چاہتے ہیں تو پہلے دینے والوں کو سوچنا ہوگا کہ وہ کسی بھی صورت میں بیگانی دولت سے اپنے ہاتھوں کو گرم نہیں کریں گے۔اپنے رزق حلال میں حرام کے نوالے شامل نہیں کریں گے۔اگر وہ اس عہد و پیماں پر کاربند ہوتے ہیں تو تبدیلی ممکن ہے۔دوسری صورت میں جب فیصلے میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں گے تو دینے والوں کے منہ بند ہو جائیں گے ، ہاتھ کانپنا شروع ہو جائیں گے۔
ایسے آثار و کیفیات کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب علاج سے بہتر پرہیز والی کہاوت پر عمل کیا جائے۔
میری درینہ خواہش ہے کہ پاکستان رشوت کے ناسور سے پاک ملک ہو۔جہاں ہر کسی کا جائز کام ہو۔لوگوں کو ذہنی اور معاشی دکھ نہ ملے بلکہ انہیں ایک ایسا احساس ملے جہاں وہ بخوشی پاکستان کی تعمیر و ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
