![]() |
| بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کرنے والی کویتا مہتو کی ہمت کی کہانی۔ |
بھارت (رپورٹ؛ داؤدعمانوئیل، سٹی کوآرڈینیڑ نوائے مسیحی) بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع رام گڑھ سے تعلق رکھنے والی بیوہ ماں کویتا مہتو کی ہمت اور محنت کی کہانی سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ شوہر کے انتقال کے بعد اپنے دو بچوں اور بزرگ ساس سسر کی کفالت کرنے والی کویتا مہتو نے ہوم گارڈ کی بھرتی کے ٹرائلز میں ساڑھی پہنے اور ننگے پاؤں 1600 میٹر کی دوڑ میں حصہ لیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق انہوں نے یہ فاصلہ صرف 7 منٹ میں مکمل کیا، جبکہ مقررہ وقت کی حد 10 منٹ تھی۔
شوہر کے انتقال کے بعد خاندان کی ذمہ داری
کویتا مہتو کی زندگی اس وقت ایک مشکل مرحلے میں داخل ہوئی جب تین سال قبل ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ اس سانحے کے بعد انہیں اپنے دو چھوٹے بچوں کے ساتھ بزرگ ساس سسر کی ذمہ داریاں بھی سنبھالنا پڑیں۔
گھر کے اخراجات پورے کرنے اور بچوں کی پرورش کے لیے کویتا گھروں میں کام کاج کرتی ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے ان کی کوششیں جاری ہیں۔
ساڑھی اور ننگے پاؤں دوڑ، سب کی توجہ حاصل کر لی
رام گڑھ میں ہوم گارڈ کی بھرتی کے دوران کویتا مہتو کی شرکت نے لوگوں کو حیران کر دیا۔ عام کھیلوں کے لباس اور دوڑنے والے جوتوں کے بجائے وہ ساڑھی میں ننگے پاؤں میدان میں اتریں۔
انہوں نے 1600 میٹر کا فاصلہ سات منٹ میں طے کیا۔ بتایا گیا ہے کہ بھرتی کے ٹرائلز میں اس فاصلے کو مکمل کرنے کے لیے دس منٹ کی حد مقرر تھی۔
کویتا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ان کی جدوجہد، حوصلے اور اپنے خاندان کے لیے کچھ کرنے کے عزم پر گفتگو کی جا رہی ہے۔
بچوں کے بہتر مستقبل کی امید
اطلاعات کے مطابق رام گڑھ میں ہوم گارڈ کی 284 اسامیوں کے لیے بھرتی کا عمل جاری تھا، جس میں بیوہ خواتین کے لیے بھی کوٹہ موجود تھا۔ کویتا مہتو کی کوشش اپنے بچوں کی بہتر پرورش اور خاندان کے لیے روزگار حاصل کرنے کی امید سے جڑی ہوئی ہے۔
تاہم دوڑ مکمل کر لینا بھرتی میں حتمی انتخاب کی ضمانت نہیں، کیونکہ اس کے لیے متعلقہ شرائط اور دیگر مراحل بھی اہم ہوتے ہیں۔
کویتا مہتو کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مشکل حالات میں خاندان کی ذمہ داری اٹھانے والی خواتین کو اکثر روزگار، بچوں کی پرورش اور گھر کے اخراجات جیسے کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایسی خواتین کی محنت کو سراہنے کے ساتھ ساتھ انہیں روزگار کے مساوی مواقع، تحفظ اور باعزت زندگی کے لیے معاونت فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
ماں کی محبت، ہمت اور قربانی کو سلام!
